مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: فوجی جارحیت میں شکست کھانے کے بعد امریکہ نے سفارتی اور اقتصادی شعبوں میں اسلامی جمہوری ایران کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سفارتی آداب کو پامال کرتے ہوئے امریکہ نے ایران کو عالمی برادری سے الگ رکھنے کی ہرممکن کوشش کی تاہم واشنگٹن کو اس مرحلے میں بھی منہ کی کھانی پڑی۔
امریکی سازشوں کے باوجود ایرانی وفد مخصوصا وزیر خارجہ نے بھرپور کارکردگی دکھاتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کیں اور باہمی تعلقات سمیت مختلف امور پر مذاکرات کئے۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں وسیع سفارتی سرگرمیاں انجام دیں اور مختلف ممالک کے حکام، وزرائے خارجہ اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی نے اپنے دورہ نیویارک کے دوران مجموعی طور پر 45 دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں اور مشاورت کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کے خلاف جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری مسئلہ، علاقائی سلامتی اور سفارتی راستوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آبنائے ہرمز اور مذاکرات
عراقچی کی ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کا معاملہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔ ایران نے ہرمز میں سلامتی کی صورت حال معمول پر لانے کے لیے اپنی شرائط مختلف ثالثوں تک پہنچائیں تاکہ یہ پیغام امریکہ تک بھی منتقل ہو۔ عراق کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں بھی آبنائے ہرمز کی سلامتی کو امریکہ کی ان کارروائیوں کو روکنے سے جوڑا گیا جنہیں ایران خطے میں عدم تحفظ کا سبب سمجھتا ہے۔
ایران نے اس حوالے سے یہ مؤقف بھی واضح کیا کہ خطے کے ممالک کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اردن کے ساتھ مشاورت میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ علاقائی ممالک کو ایسی صورت حال پیدا کرنے سے روکنے کی ضرورت ہے جس میں ان کی سرزمین ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو۔
یورپ؛ اختلاف کے باوجود رابطے جاری
عراقچی نے فرانس، نیدرلینڈز، آسٹریا، اٹلی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد یورپی ممالک کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران نے خطے کی حالیہ صورت حال، پابندیوں اور امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے حوالے سے بعض یورپی ممالک کے مؤقف پر تنقید کی اور ایران کے نقطہ نظر کی وضاحت کی۔
اسلامی جمہوری ایران نے یورپی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کے دروازے بند نہیں کیے۔ اختلافات کے باوجود مذاکرات اور مشاورت کے چینلز کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر سفارتی راستے سے بات چیت جاری رکھی جا سکے۔
ہمسایہ ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی پر مشاورت
ایرانی وزیر خارجہ نے عراق، اردن، قطر، سعودی عرب، آذربائیجان اور آرمینیا سمیت خطے کے مختلف ممالک کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان مشاورتوں میں علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز، قومی خودمختاری اور اقتصادی تعلقات جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
ہمسایہ ممالک کے حوالے سے ایران کا ایک اہم پیغام یہ تھا کہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جوہری معاملہ؛ سفارتی کوششیں جاری
عراقچی کی ملاقاتوں میں ایران کے جوہری معاملے اور مستقبل میں سفارتی مذاکرات جاری پر بھی بات ہوئی۔ ایران نے جوہری مسئلے کے حل کے لیے سفارتی راستہ جاری رکھنے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ دوسرے فریق کی بعض شرائط ایران کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
ایران نے مختلف فریقوں کے ساتھ مشاورت میں اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاملے کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
نیویارک میں ایران کی سفارتی سرگرمیاں صرف اتحادی یا ہم خیال ممالک تک محدود نہیں رہیں۔ تہران نے ایسے ممالک کے ساتھ بھی علاقائی سلامتی، جوہری مسئلے، معیشت، دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی صورت حال پر بات چیت کی جن کے مؤقف ایران سے مختلف ہیں۔
اس طرح ایران نے مختلف سطحوں پر اپنے مؤقف کی وضاحت اور دوسرے فریقوں کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے براہ راست سفارتی رابطوں کو استعمال کیا۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی مسائل کے ساتھ ساتھ ایران کے قومی مفادات اور خودمختاری سے متعلق امور بھی زیر بحث رہے۔
دفاع اور سفارت کاری ساتھ ساتھ
نیویارک میں عراقچی کی سرگرمیوں کا بنیادی پیغام ’’دفاع کے تسلسل میں سفارت کاری‘‘ کے تصور کے گرد رہا۔ اس تصور کے مطابق میدان جنگ میں پیدا ہونے والی قوت اور دباؤ سفارتی میز پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرتے ہیں، جبکہ سفارت کاری اس قوت کو سیاسی نتائج اور مذاکراتی فوائد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ایران کے لیے سفارت کاری کا مقصد محض مذاکرات جاری رکھنا نہیں بلکہ ان مذاکرات کو ایسے نتائج تک پہنچانا ہے جو ملک کے مفادات کو محفوظ کریں۔ اسی لیے نیویارک میں ہونے والی 45 ملاقاتوں میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں تک ایران کے بنیادی مؤقف کو پہنچایا گیا۔ ان تمام ملاقاتوں اور مشاورتوں سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ایران سفارتی راستہ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، لیکن ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس میں ایرانی مفادات محفوظ نہ ہوں۔
تہران نے ایک طرف مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی رابطے جاری رکھے اور دوسری طرف اپنی سلامتی، خودمختاری، علاقائی مفادات اور جوہری معاملے پر اپنے مؤقف کو واضح رکھا۔ یوں نیویارک میں ایران کی سفارتی سرگرمیوں کا محور صرف ملاقاتوں کی تعداد نہیں بلکہ ان ملاقاتوں کے ذریعے اپنے مطالبات، شرائط اور مؤقف کو مختلف فریقوں تک پہنچانا تھا۔
آپ کا تبصرہ